ظلم اور استحصال کے بعد سویرا تحریر ؛ احسن غوری

 

ظلم اور استحصال جب اپنی انتہائی حد کو پہنچتا ہے تو سویرا ہونے کو ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقولہ ہے کہ جو انسانی زندگی کے نشیب و فراز پراکثر صادق آتا ہے۔ پاکستان بنانے والے وہ نفوس جو پاکستان بننے سے پہلے پاکستانی تھے، جب اپنے وطن پہنچے تو ان کو مختلف قسم کے القابات سے نوازا گیا۔ کسی نے کہا کہ پاکستان ابھی آگے ہے تو کسی نے ہجرت کو ترکِ وطن اور نقل وطن سے تعبیر کرنا شروع کردیا۔ عاقبت نااندیش پاکستانیوں نے پیدائشی پاکستانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ زندگی کے ہر شعبے سے انہیں دور رکھا گیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان نفو س کو ایک بار پھر ہجرت کرنا پڑی اور وہ اندرونِ سندھ ہجرت کرکے شہروں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیے گئے۔ اپنے اجداد کی املاک کو چھوڑ کر آنے والوں کو جب یہاں املا ک دی جانے لگیں تو انہیں عددی طاقت کی بنیاد پر ان املاک سے بے دخل کیا گیا۔ یہ سلسلہ یونہی چلتے چلتے 70ء کی دہائی میں داخل ہوا اور شہر کراچی جو ان پاکستانیوں کا سب سے بڑا شہر تھا جو ازلی طور پر پاکستانی تھے، لیکن جب اس طبقے کے نوجوانوں نے کراچی کی مادرِ علمی جامعہ کراچی کا رُخ کیا تو وہاں انہوں نے اس تفریق کو واضح طور پر محسوس کیا۔ ہر سو ہر قوم کے بینرز آویزاں تھے۔ اگر نہ تھے تو پاکستانیوں کے نہیں تھے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے پاکستانی کا بینر لگا کر شناخت کرانا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پھر اس وقت کے مہاجر اکابرین نے اپنے اسلاف کی قربانیوں، جدوجہد کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کی بقاء کے لیے ایک ایسی تحریک کی بنیاد ڈالی جس میں ان کے ہمرکاب ان نفوس کی اولادیں آئیں جنہوں نے ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان کو اپنا وطن بنایا تھا۔ اس تحریک کانام آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن رکھا گیا اور اس پرچم تلے مہاجروں کو متحد ہوتا ہوا دیکھنا کسی کو ایک آنکھ نہ بھایا اور اس تحریک کے خلاف سازشیں شروع کردی گئیں۔ انتہائی نامساعد حالات میں مخالفین کی بندوقوں کا سامنا کرتے ہوئے اس تحریک نے اپنے قدم جمانا شروع کیے اور یہ آگے بڑھتی چلی گئی لیکن جب اس پر جامعہ کراچی کی زمین تنگ کی گئی تو یہ پورے شہر کراچی میں پھیل گئی اور استحصالی طبقے کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی کہ اب تو یہ عوامی سطح پر اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں۔ پھر ایم کیو ایم کے بانی چیئرمین عظیم احمد طارق کی قیادت میں ایک عوامی پلیٹ فارم سے مہاجر قومی موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس طرح سندھ کے شہری علاقوں سے دائیںبازو کی مذہبی سیاسی جماعتوں ، مسلم لیگ کے تمام دھڑوں اور پیپلز پارٹی کا صفایا کیا ، اس میں ایک ایسی ہلچل مچائی کہ اب سازشیں کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ پہلے پہل ڈرگ مافیا اور لینڈ مافیا کو اس تحریک کے مد مقابل لایا گیا۔ عوامی طاقت ، صبر اور قربانیوں سے اس سازش کا مقابلہ کیا گیا اور کامیابی سے تحریک کو اس مشکل مرحلے سے نکال لیا گیا۔ پھر ریاست نے براہِ راست اس تحریک پر شب خون مارا اور یہ مرحلہ بھی بڑی قربانیوں کے بعد کامیابی سے عبور کیا گیا اور یوں خون کے ان گنت دریا عبور کرتے ہوئے یہ تحریک اکیسویں صدی میں داخل ہوئی۔ بدقسمتی سے ابھی اکیسویں صدی کی ایک دہائی ہی گزری تھی کہ یہ تحریک داخلی انتشار کا شکار ہونے لگی۔ منتشر فیصلے سامنے آنے لگے۔ اس کا نتیجے کے طور پر 22اگست 2016ء کو ایم کیو ایم اور ا س تحریک کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے فیصلے سے تعبیر کیا جاسکتا تھا لیکن ہمار ی سیاسی قیادت نے فاروق ستار کی سربراہی میں 23اگست 2016ء کے دن انقلابی فیصلے کیے اور تحریک کی ان قربانیوں کو بچانے کے لیے جنہیں ہزاروں شہیدوں بشمول مال و اسباب کی قربانی بھی شامل تھی، تلخ فیصلے کرنا پڑے۔ یہ فیصلے اس لیے نہیں کیے گئے کہ کسی نے بزدلی کرکے پیٹھ دکھائی بلکہ یہ فیصلے ملک و قوم کی بقاء کے لیے کیے گئے۔ 22 اگست کو جو نعرے لگائے گئے تھے، ان کے ساتھ بانیانِ پاکستان کی اولادوں کا چلنا تقریباً ناممکن تھا۔ اگر یہ فیصلے اس لیے کیے گئے کہ ان کے نزدیک پوائنٹ آف نو ریٹرن آچکا تھا، تو یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ بہرحال پاکستان میں موجود مہاجر اکابرین نے سیاسی تدبر اور فہم و فراست سے اس چالیس سالہ تحریک کو بچا کر قومی دھارے میں برقرار رکھا جو کسی سیاسی معجزے سے کم نہیں۔ اس پس منظر میں آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے اور تحریک کے لیے وقت نکالے۔ 11جون کا دن نظریاتی تحریکوں کے کارکنان کے لیے انفرادی احتساب کا دن ہوتا ہے۔ اس دن اپنے آپ کو تحریک کی سوچ اور نظریے کے سپرد کرنے کا عہد کریں۔ اپنی آنے والی نسلوں کی بقاء اور سلامتی کے لیے ہر وہ عمل کریں جس سے ہمارا مستقبل محفوظ ہو اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم قلم اور علم سے اپنی دوستی کو مضبو ط کریں۔