ہمار اتحاد پاکستان کے امن و استحکام کی ضمانت اور ہمارے تمام بنیادی مسائل کا حل ہے، سربراہ ایم کیوایم پاکستان ڈاکٹر محمد فاروق ستار

اگر مردم شماری صحیح ہوگئی اور 140کے تحت اختیارات مل گئے تو پانی بجلی سمیت عوام کے بینادی مسائل اپنے اتحاد کے ذریعے میرٹ پر
حل کرائیں گے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
11جون 1978ء سے لیکر 11جون 2017ء ایک صدی تبدیل ہوگئی مگر ہماراوعدہ اور ارادہ تبدیل نہیں ہوا ، ڈپٹی کنوینر رابطہ کمیٹی و سابق چیئرمین اے پی ایم ایس او ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ہم نے ہمیشہ قلم کی سیاست کی جس نے ہمارے ساتھ چلنا ہے چلے نہیں چلنا نہ چلے ، رکن رابطہ کمیٹی و سابق چیئرمین
اے پی ایم ایس او فیصل سبزواری
ایم کیوایم پر جب بھی مشکل وقت پڑا اے پی ایم ایس او نے آگے بڑھ کر اسے سنبھالا ، انچارج اے پی ایم ایس او احسن غوری
اے پی ایم ایس او کے 39ویں یوم تاسیس کے موقع پر بہادر آباد کلب میں منعقدہ دعوت افطار کے شرکاء سے خطاب
کراچی ۔۔۔11، جون 2017ء
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ اورسابق مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایک غریب متوسط طبقہ کے طالب علموں کی جماعت اے پی ایم ایس او 39سال سے سرواؤ کررہی ہے جس نے 39سالہ ظلم و ناانصافیوں کو سہا اور اپنی جگہ ڈٹے رہے لیکن سر واؤ کیا ، میں شہداء کے مقدس لہو کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی وجہ سے آج ہم نے سرواؤ کیا ۔ سازشیں بیرونی ہو ں یا اندر سے کوئی معاملہ ہو اس کے باوجود بھی سرواؤ کیا اورجو سرواؤ کرتے ہیں وہی پاکستان کی بقاء و سلامتی کی ضمانت بنے گے ، اے پی ایم ایس او نے ایم کیوایم کو جنم دیا پوری انسانی سیاسی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا اتنی انفرادیت ،خصوصیت شاندار ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اے پی ایم ایس او کے 39یوم تاسیس کے موقع پر بہادرآباد کلب میں منعقدہ دعوت افطار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ دعوت افطار میں ایم کیوایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن اور رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ، اے پی ایم ایس او کے انچارج و اراکین اور میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ ڈاکٹرمحمد فاروق ستار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے پی ایم ایس او کو اپنی تین خصوصیات کا بخوبی علم ہونا چاہئے یہ تین خصوصیات باقی سیاسی جماعتوں سے منفرد اورممتاز بناتی ہیں اور اس کا شعوری اداراک ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اسی اے پی ایم ایس او نے پاکستان کی چوتھی اور تیسری بڑی سیاسی جماعت کو جنم دیا ہے ، اے پی ایم ایس او کے آباؤ اجداد نے پاکستان کی تحریک کو جنم دیا اور پاکستان بنایا ہے ۔ اتحاد ، تنظیم ، یقین اورمحکم یہ باتیں قائد اعظم محمد علی جناح کی عمل و کردار میں اگر ہماری عملی پاکستان کی سیاست میں کہیں نظر آتی ہے تو صرف اور صرف اے پی ایم ایس او کے اندر نظر آتی ہے ۔ بد تر سے بد تر مخالف یہ تسلیم کرتا ہے کہ اگر کوئی منظم سیاسی اور طلبہ کی جماعت ہے تو وہ ایم کیوایم اور اے پی ایم ایس او ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عملی طور پر غیر آئینی کوٹا سسٹم کا خاتمہ چاہتے ہیں ، ہم پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے آبادی کے مطابق جائز حصہ چاہتے ہیں ، تعلیمی اداروں میں داخلے اور روزگار میرٹ کی بنیاد پر چاہتے ہیں ۔ اے پی ایم ایس او کے 40ویں یوم تاسیس کے موقع پر جب 2018ء کے انتخابات میں امیدواروں کا اعلان کررہے ہوں گے تو سب سے زیادہ نوجوانوں کو ٹکٹ ایم کیوایم دے گی اور نوجوان الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مردم شماری صحیح ہوگئی ، اگر مردم شماری صحیح ہوگئی اور 140Aکے تحت اختیارات مل گئے تو پانی بجلی سمیت عوام کے بنیادی مسائل اپنے اتحاد کے ذریعے میرٹ پرحل کرائیں گے، ہمارا اتحاد ہی پاکستان کے امن و استحکام کی ضمانت ہے۔ 10جون کے موقع پر کامران ٹیسیوری کو پی ایس 114کیلئے نامزد کیا ہے، یہ الیکشن بھی 2018ء کے الیکشن کی بنیاد رکھے گا ۔ آخر میں انہو ں نے اے پی ایم ایس او کے 39ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد بھی پیش کی ۔ ڈپٹی کنوینر رابطہ کمیٹی (پاکستان ) اور سابق چیئرمین اے اپی ایم ایس او خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ آج 11جون ہے ، 11جون مہاجر قومیت کا ستون ہے اور نیا جنون اور نیا خون ہے ۔11جون 1978ء سے لیکر 11جون 2017ء ایک صدی تبدیل ہوگئی مگرہمارا وعدہ اور ارادہ تبدیل نہیں ہوا ہے ، یہ 39واں اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس ہے ، ہماری عمریں اب سورج کے نکلنے ، ڈوبنے اور چاند کے نکلنے اور کلینڈر بدل جانے سے نہیں یوم تاسیس سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم لوگوں کی عمریں کتنی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ22،ا گست کو پچھلے سال حالات نے راستے میں خم پیدا کردیا تھا اور نادان لوگ اسے ہمارا ختم سمجھ رہے تھے ، ہم نے یہ موڑ بھی کاٹ لیا ہے ، خدا کا شکر ہے کہ ہم نے مشکل موڑ بھی کاٹ لیا ہے یا کاٹ رہے ہیں، دشوار ضرور تھا لیکن اس سے نکلتے جارہے ہیں ، 11جون عزم و ارادے ، وعدوں کی تجدید کا دن ہے ، آج کے دن ہم اے پی ایم ایس او سے توقع کرتے ہیں کہ اے اپی ایم ایس او ایم کیوایم کیلئے شجر سایہ دار ہے تو لیبر ڈویژن ، ڈسٹرکٹ ، ڈویژن اور دیگر شعبہ جات ایم کیوایم کی شاخیں ہیں ، ایم کیوایم ایک سایہ دار شجر ہے تو اس کی جڑیں آپ ہیں اور جڑ کا کام زمین سے جڑے رہنا ہے ، ہمیں اے پی ایم ایس او سے کارکنان نہیں لیڈر چاہئیں ، آپ کا کام ہے کہ دیکھئے وہ کون لوگ ہیں جو آگے آکر تصویر نہیں کھنچواتے انہیں آگے لانا ہے ، جو لوگ مقصد کے گرد چھپ جاتے ہیں وہی مقصد کو بلند کرپاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 11جون 1978ء کو قوم کی کمان سنبھالی تھی یہ جنگ آپ کو لڑنی ہے ، تازہ خون اور لیڈر شپ فراہم کرنا اے پی ایم ایس او کی ذمہ داری ہے ۔ ایم کیوایم (پاکستان ) کی رابطہ کمیٹی کے رکن اورسابق چیئرمین اے پی ایم ایس فیصل سبزواری نے کہا کہ میرے لئے آج بھی یہ فخر اور اعزاز کا مقام ہے کہ جب مجھے سابق چیئرمین اے پی ایم ایس او کہہ کر بلایاجاتا ہے ، رکن صوبائی اسمبلی ، سنیٹر ، وزیر بننا شاہد اتنے فخر اور اعزاز کی بات نہیں سمجھی جاتی کہ جتنی تنظیمی ذمہ داریاں باعث اعزاز ہوتی ہیں ، ان تنظیمی ذمہ داریوں میں خاص طور پر اے اپی ایم ایس او کی کسی ذمہ داری پر فائز ہو نا وہ اور بھی باعث فخر ہوتی ہے ، اے پی ایم ایس او یہ بات کہتی چلی آئی ہے کہ ہم نے ایم کیوایم کو جنم دیا اور چلایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خاص بات یہ ہے کہ آج کی اے پی ایم ایس او کل کی اے پی ایم ایس او بننے کیلئے تیار ہے یا نہیں ہے ، نعرے بہت جماعتیں لگاتی ہیں لیکن کیا حال کی اے پی ایم ایس او مستقبل کی اے پی ایم ایس او بن پائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اسلحہ کی سیاست ہم نے کی ہے نہ کرے گی ہم نے ہمیشہ قلم کی سیاست کی جس نے ہمارے ساتھ چلنا ہے چلے نہیں چلنا نہ چلے ہماری قلم سے دوستی کو کوئی بزدلی نہ سمجھے ۔ انہوں نے کہاکہ 11جون کی بنیاد آل پاکستان کے نام سے رکھی گئی تھی ، ہم نے مہاجر مقتول اور قاتل کی سیاست نہیں کرنی ہے ،اس نظام کو چیلنج کرنا ہمارا وعدہ تھا اور وعد ہ رہے گا ، یہ تنظیم مہاجروں اور عام پاکستانیوں کے حقوق کے حصول کیلئے تھی اور یہ اسپرٹ ہماری برقرار رہنا چاہئے ۔ اے پی ایم ایس او کے انچارج احسن غوری نے کہا کہ آج 11جون 2017ء ہے اور یہ دن اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس ہے ، 11جون ایک دن ہی نہیں ایک نظریئے کا نام ہے ، 11جون اس نظریئے کا نام ہے جس کو قائم و دائم رکھنے کیلئے ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر کھو دیئے ہیں ،اس نظریئے کیلئے ہزاروں ساتھی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ شہادتیں اس لئے دی گئیں کہ نظریہ بچ جائے ، اے پی ایم ایس او کا ایک ایک ساتھی پرچم کی سر بلندی کیلئے سر کٹانا گوارا کرسکتا ہے جھکا نہیں سکتا ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پر جب بھی مشکل وقت پڑا اے پی ایم ایس او نے آگے بڑھ کر اسے سنبھالا ہے ، میرا وعدہ ہے کہ اے پی ایم ایس او کا ایک ایک کارکن ڈاکٹر محمد فاورق ستار ، خالد مقبول صدیق اور فیصل سبزواری بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اے پی ایم ایس او کے 39ویں یوم یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اے پی ایم ایس او ماضی کی طرح ایم کیوایم کو قیادت فراہم کرسکتی رہے گی ۔
*****