“Haqooq Rally” is a milestone in the History of Pakistan, Says Dr. Farooq Sattar

لندن سے ریلی کی مخالفت،اسے سبوتاژکرنے کی سازش کرنے والوں نے سندھ کے شہری عوام اورمظلوموں کے حقوق کی جدوجہد کی مخالفت کردی ہے،کنوینرایم کیوایم (پاکستان)ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
ریلی میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہونے والوں نے لندن کے ارادوں کو خاک میں ملادیا،ڈاکٹرمحمد فاروق ستار
واٹر بورڈ ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ، کے ڈی اے ، ایم ڈی اے ، ایچ بی سی اے ،سمیت ساری ڈولپمنٹ اتھارٹی میئر اور منتخب کاؤنسل کے انڈر میں ہونے چاہئیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
میئراور منتخب کونسل کو اختیارا ت نہیں دیئے جارہے ہیں ، ایک دو روز میں سپریم کورٹ جارہے ہیں ، ڈاکٹر محمدفاروق ستار
پاناما پروزیراعظم کو اب کوئی آبروو مندانہ فیصلہ، مطالبہ اور احتجاج پر غورکرنا چاہئے ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
180نیب کے مقدمات میں حقیقتاًتحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
180میگا کرپشن کے مقدمات کیلئے سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ وہ ہر ایک پر جے آئی ٹی بنائے اور اس کی نگرانی کرے تب کہیں جاکر پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
اردو بازار میں بروقت کاروائی کو قابل اطمینان بخش اور اس پر رینجرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
نئے عارضی مرکز واقع بہادرآباد میں سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان اور اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی ۔۔۔ 25، اپریل 2017ء
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ23، اپریل کی عظیم الشان ’’حقوق ریلی ‘‘ نے سندھ کے شہری علاقوں کے غضب شدہ حقوق کی بحالی، جدوجہد کی ایک بنیاد رکھ دی ہے ،ہم نے بہت نامساعد حالات میں ریلی کا انعقاد کیا ، ریلی کو ناکام بنانے کیلئے لندن میں پریس کانفرنس ہوئی ، ریلی کی بھر پور مخالفت کی گئی اور جو لوگ لندن کے ساتھ اگر ہیں انہیں کہا گیاکہ وہ ریلی کا بائیکاٹ کریں اور کسی حال میں ریلی میں شرکت نہیں کریں ،ریلی کو سبوتاژ کرنے کرنے کیلئے شرپسندوں کو بھی دو تین سیکشن میں وہاں بھیج کر اشتعال انگیزی کرائی گئی ، ملک مخالف نعرے اور ریاست دشمنی کا مظاہرہ کیا ، ریلی کی مخالفت کرنے والوں نے گویا سندھ کے شہری عوام اور مظلوموں کے حقوق کی جدوجہد کی مخالفت کردی ہے لیکن الحمد اللہ ریلی میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہونے والوں نے لندن کے ارادوں کو خاک میں ملایا اور ان کی سازش کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہاکہ واٹر بورڈ ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ، کے ڈی اے ، ایم ڈی اے ، ایچ بی سی اے ،سمیت ساری ڈولپمنٹ اتھارٹی میئر اور منتخب کاؤنسل کے انڈر میں ہونے چاہئیں ،آرٹیل 140Aپر عملدرآمد نہیں ہورہاہے ، آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے ،میئراور منتخب کونسل کو اختیارا ت نہیں دیئے جارہے ہیں ، ایک دو روز میں میں ہم اس ضمن میں سپریم کورٹ جارہے ہیں ۔انہوں نے اردو باززار میں دہشت گردوں کے خلاف رینجرز کی بروقت کارروائی کو سراہا اور اس میں حصہ لینے والے رینجرز اہلکارون کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی ۔انہوں نے کہاکہ پاناما پروزیراعظم کو اب کوئی آبروو مندانہ فیصلہ کرنا چاہئے اور جو احتجاج اور مطالبہ ہے ہمارا مشورہ ہے کہ اس پر انہیں غور کرنا چاہئے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز ایم کیوایم (پاکستان ) کے نئے عارضی مرکز واقع بہادرآباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس میں رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، رابطہ کمیٹی کے اراکین فیصل سبزواری ، عارف خان ، ارشد حسن اورراشد سبزواری بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طویل عرصے کے بعد23اپریل کو کراچی میں ایک سیاسی تحریک نظر آئی ، ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے ، ہم بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ، 23، اپریل کی ریلی بجا طور پر ایک بہت بڑے ریلے کی شکل اختیار کرگئی ۔ انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں اور باالخصوص کراچی کے عوام ،ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں،نوجوان ، طلبہ و طالبات اور بزرگ اور مختلف شعبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے تاجر ،صنعتکار ، وکلاء، ڈاکٹر ، انجینئر سمیت ایک ایک فرد کا شکریہ اداکیا، ریلی کی کامیابی سندھ کے شہری عوام اورمظلوموں کے ساتھ انصاف کا آغاز ہے اور وڈیرے جاگیردار جو دیہی سندھ کی مصنوعی اکثریت کی بنیاد پر پورے سندھ کے وسائل ، اختیار پر قابض ہیں اور انہوں نے جس غیرجمہوری رویئے کا مظاہرہ کیا اور ظلم و ستم ناانصافیاں کی ہیں نو سال کے دوران اس کو ہم نے بڑی تفصیل، وضاحت اور سراعت کے ساتھ وائٹ پیپر میں بھی آشکار کیاہے اور ریلی میں انہی مسائل کے حل کیلئے عوام نکلے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریلی کا مقصد حکومت سندھ کی زیادتیوں اور نااہلی کو بے نقاب کرنا تھا ، ریلی میں پانی بجلی کے مسائل کو اٹھایا ،واٹر بورڈ اور کے الیکٹرک میئر کے انڈر میں ہونے چاہئے دونوں اداروں کیلئے عوام نے ریلی میں ریفرنڈم دیا ہے ، واٹر بورڈ ، کے الیکٹرک اور سندھ حکومت کو اپنا قبلہ درست کرنا چاہئے اور ہمیں اگلے اقدام پر مجبور نہیں کرنا چاہئے یہیں سے معاملات کو سلجھانے اور انصاف کی فراہمی اور بنیادی مسائل کے حل کا سلسلہ شروع ہوجاناچاہئے، زائد بلنگ ، پی او یو ٹی کی سہولت کے ای ایس سی کے رہائشی صارفین کو نہیں دی جارہی ہے ، فی الفور ٹی او یو پر عملدرآمد کیاجائے ، عام شہریوں کو ریلیف دیاجائے ، ان کے بلوں میں کمی کی جائے ، واٹر بورڈ کے حوالے سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ یہ میئر اور منتخب کاؤنسل کے انڈر میں ہونا چاہئے ، واسا پانی کی تقسیم کرتی ہے وہاں کے میئر کے انڈر میں ہونی چاہے ، اسی طرح بلڈنگ کنرول اتھارٹی عرصہ دراز سے میئر کے پاس تھا ، لیکن وسیم اختر کے انڈر میں نہیں ہے ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ایک محکمہ بالا ہی بالا بنا کر صوبائی تحویل میں دیدیا گیا ہے ، اسے بھی وسیم اختر یا دیگر شہروں کے میئر کے انڈر میں ہونا چاہئے،ماسٹرپلان کا منصوبہ ، کے ڈی اے ، ایم ڈے اے ، ایچ بی اے ، ساری ڈویپلمنمنٹ تھارٹی میئر اور منتخب کاؤنسل کے انڈر میں ہونی چاہئے ، آرٹیکل 140Aکی کسی بھی آئینی ماہرسے قانونی تشریح کرائی جائے تو موٹر وہیکل ٹیکس ، ماسٹر پلان ، شعبہ بلدیات ، پراپرٹی ٹیکس منتخب میئر اور کاؤنسل کے ماتحت قرار پائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ پاناما لیکس کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے ، ہم اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی متفقہ رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ویزراعظم پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بھی ایسا راستہ اختیار کریں جو باوقار ہو ، پورے ملک کی رائے کو سمجھ کر یہ بات کہی جارہی ہے کہ جے آئی ٹی کو موثر طور پر کام کرنے دیاجائے ، جے آئی ٹی ہر اعتبار سے غیر جانبدار ہونا چاہئے ، ان ساری باتوں کوممکن بنانے کیلئے وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریں ،پانامہ لیکس کی بات آگے بڑھی ہے تو وہیں آرٹیکل 63کلاز ون سب کلاز این اس پر بھی عملدرآمد ہونا چاہئے ، آرٹیکل 62اور 63میں عملدرآمد میں تکرار ہو رہی ہے پھر آدھی بات نہیں ہونی چاہے پوری آیت پڑھنی چاہئے ، 63میں ون اے بھی ہے کہ جن لوگوں نے قرضے لئے اور ہڑپ کئے اور معاف کرایا آرٹیکل 63ون این صاف کہتا ہے کہ ایسے لوگ نااہل ہیں اور الیکشن نہیں لرسکتے ہیں اور لڑ کر منتخب ہوچکے ہیں تو ا ن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور پورا عملدرآمد کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ 180نیب کے مقدمات میں حقیقتاًتحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور اس میں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے واضح طور پر نیب پر دباؤ نظر آتا ہے ،چاہے صوبائی اور وفاقی معاملات ہوں ، یہ ہزاروں ارب روپے کی خود برد ہے ، لوٹ مار اور کرپشن ہے ، ان مقدمات کی دستاویزات کانام میگا کرپشن اسکینڈل ہے ، اور جو چھوٹے کرپشن کے کیسز کسی کھاتے میں نہیں ہیں ، 180میگا کرپشن کے مقدمات جو نیب میں ہیں ان کی تحقیقات کیلئے بھی سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر ایک پر جے آئی ٹی بنائے اور اس کی نگرانی کرے تب کہیں جاکر پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور ایک شفاف احتساب کا نظام قائم ہوگا اور جب تک نیب کا ایک نیا اور موثر قانون نہیں اور غیر جانبدار نظام نہیں بن جاتا اس وقت تک سپریم کورٹ کو یہ ذمہ داری اٹھانا ہوگی اور سپریم کورٹ ہی 180مقدمات کا فیصلہ کرے اور اس پر بھی جے آئی ٹی بنائے اور منطقی انجام تک پہنچائے ۔ انہوں نے کل رات اردو بازار کے اطراف میں دہشت گردی کا واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس میں رینجرز کے چار جوان زخمی ہوئے ، دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے اور اس میں ایک عورت اور بچے کی جان بھی ضائع ہوئی ہے ،رینجرز نے جس طرح سے اس دہشت گردی پر قابو پایا ، دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے اور انہیں مزید تباہ کاری کرنے سے روکا ہے اس پر رینجرز کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اوربروقت کاروائی کو قابل اطمینان قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے د ہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے نیٹ ورک پر گہری ترشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ س پر نظر ڈالنے اور کاروائی کرنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلے میں کمیونٹی کو محلوں میں متحرک کرنے اور چوکیداری نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر اس کی روح کے مطالق عملدرآمدکیاجائے ۔ انہوں نے پارا چنار میں آج ہونے والے دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دہشت گردوں کے معاملے پر پاکستانی عوام نگاہ رکھیں گے اور حالات سے آگاہ رہیں گے اور کہیں بھی ایسی پراسرار حرکت دیکھتے ہیں تو اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ادا کریں گے ۔ دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے ہمارا کونسلروں ، یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین کا نیٹ ورک قانون نافذ کرنے والوں کا دست راست بن کر تعاون کرنے کیلئے تیار ہے ۔
*****